بدھ 21 جنوری 2026 - 07:38
قومی امن و سلامتی عوامی یکجہتی اور بیداری کے مرہونِ منت ہے

حوزہ / آیت اللہ سبحانی نے ایران کے حالیہ واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: انقلاب کے آغاز میں نوژہ کی بغاوت جیسے واقعات پیش آئے، اس کے بعد بھی دوسرے فتنے پیدا ہوئے اور جو کچھ آپ نے پچھلی دہائی میں دیکھا وہ سب اسی قسم کے واقعات ہیں۔ یہ پانی پر جھاگ کی طرح ہیں جو چند منٹ، چند گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ چند دنوں کے لیے رہتے ہیں اور پھر ختم ہو جاتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ جعفر سبحانی نے اپنے درس خارج میں قرآن کریم کی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے جمہوریہ اسلامی ایران میں پیش آنے والے فتنوں کو عارضی اور غیر مستحکم قرار دیا۔

اس مرجع تقلید نے سورہ رعد کی آیت نمبر 17 «أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِیَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا ۚ وَمِمَّا یُوقِدُونَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْیَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهُ ۚ کَذَٰلِکَ یَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ۚ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا یَنفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْأَرْضِ» (ترجمہ: خدا نے آسمان سے پانی اتارا تو اپنی مناسب مقدار کے مطابق ندی نالے بہے تو بہتے ہوئے پانی نے "پھین" جو اس کے اوپر آ جاتا ہے، اٹھا لیا اور اس سے کہ جسے زیور یا اور کوئی چیز بنانے کے لیے آگ میں رکھ کر دہکاتے ہیں ایسا ہی پھین بلند ہوتا ہے. اس طرح اللہ مثال دیتا ہے حق اور باطل کی تو جو پھین ہوتا ہے وہ نیست و نابود ہو جاتا ہے اور وہ جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے تو زمین میں برقرار رہتا ہے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جیسا کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے، آسمان سے آنے والے سیلاب میں جھاگ آتا ہے۔ یہ جھاگ صرف ایک گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ چند دنوں تک رہتا ہے لیکن خالص اور پائیدار پانی زمین میں رہتا ہے اور لوگ طویل عرصے تک اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے اس قرآنی مثال کو ماضی اور حال کے واقعات پر لاگو کرتے ہوئے مزید کہا: یہ فتنے جو جمہوریہ اسلامی ایران میں ایک کے بعد ایک ظاہر ہوتے رہے ہیں، وہی "جھاگ" ہیں۔ انقلاب اسلامی کے آغاز میں نوژہ بغاوت جیسے واقعات پیش آئے، اس کے بعد دوسرے فتنے پیدا ہوئے اور جو کچھ آپ نے پچھلی دہائی میں دیکھا وہ سب اسی قسم کے ہیں۔ یہ پانی پر اسی جھاگ کی مانند ہیں جو چند منٹ، چند گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ چند دنوں کے لیے رہتے ہیں اور پھر ختم ہو جاتے ہیں۔ خالص حقائق اور وہ چیز جو لوگوں کے فائدے میں ہے وہ خوشگوار پانی کی طرح پائیدار اور مستحکم رہے گی۔

آیت اللہ سبحانی نے موجودہ قومی سلامتی کو عوامی یکجہتی اور باشعور شرکت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا: یہ امن جو آج ملک پر قائم ہے اور جس کی چھاؤں میں ہم بحث و مباحثہ کر رہے ہیں، ان لوگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے حقیقت میں امن و سلامتی کو ملک میں واپس لایا ہے۔

اس مرجع تقلید نے کہا: یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر چیز سے پہلے شہداء امنیت کے اہل خانہ سے ملاقات کریں اور مساجد جیسے مذہبی مقامات اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی اور جلد از جلد ان کی مرمت کرے۔

انہوں نے آخر میں حوزہ اور علماء کے فرائض کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ جو کچھ ہمارے بس میں ہے ہم ان معزز خاندانوں کی خدمت کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha